PPSC Lecturer Urdu Test 2 Online Preparation MCQs

Given below on this Website Online Free Taleem is free online MCQ’s test related to PPSC of Lecturer Urdu. All the individuals who are going to appear in PPSC Lecturer of Urdu written test can attempt these tests in order to prepare for it in best possible way. Our tests include all the important questions MCQs of Lecturer of PPSC Urdu, all Past Papers of Lecturer of Urdu PPSC  that have extremely high amount of chances for been included in the actual exam which make our test undoubtedly the best source of preparation.

Note:-

There will be 25 multiple choice question in the test.
Answer of the questions will change randomly each time you start this test.
Practice this test at least 5 times if you want to secure High Marks.
At the End of the Test you can see your Test score and Rating.
If you found any incorrect answer in Quiz. Simply click on the quiz title and comment below on that MCQ. So that I can update the incorrect answer on time.

Please Click Below START  Button to Take this Urdu Test Online.

Test Instructions:-
Test NameLecturer Urdu
SubjectUrdu Test 2
Test TypeMCQs
Total Questions25
Total Time20 Minutes
Total Marks100
0%

You have 20 minutes to pass to the quiz.

You have 20 minutes to pass to the quiz.


PPSC Lecturer of Urdu Practice Test 2

1 / 25

کس شاعر کو لسان العصر کا خطاب ملا؟ 

2 / 25

مجید امجد کا کلیات کس نے مرتب کیا؟

3 / 25

جس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے تسبہہ دی جاتی ہے کیا کہلاتا ہے؟

4 / 25

فورٹ ولیم کالج کس شہر میں تعمیر کیا گیا؟

5 / 25

عار کا مترادف ہے۔

6 / 25

شاعر انقلاب کس کو کہا جاتاہے؟

7 / 25

منظوم اسلامی تاریخ شاہنامہ اسلام کے خالق کون ہیں؟

8 / 25

بگٹ کہانی کے مصنف کا کیا نام ہے؟

9 / 25

کتاب نورس کیاہے؟

10 / 25

کس ہندوستانی ادیب کا ادب نوبل انعام ملا؟

11 / 25

فراق گھور کھپوری کا اصل نام کیا تھا؟

12 / 25

مسدس کے ایک بند میں کتنےمصرے ہوتے ہیں؟

13 / 25

اردو کا پہلا ڈرامہ کون سا ہے؟

14 / 25

لفظ اردو کا استعمال پہلی دفعہ کہاں ہوا؟

15 / 25

ڈرامہ میٹھی چھری کس کی تصنف ہے؟

16 / 25

عقل کا اندھا گانٹھ کا پورا سے کیا مراد ہے؟

17 / 25

سوزو ساز کیاہے؟

18 / 25

یادوں کی دنیا کے مصنف کا نام بتایئے؟

19 / 25

آثار ابو الکلام کس کی تصنیف ہے؟

20 / 25

اخبار اردو کس ادارے سے نکلتا ہے؟

21 / 25

نکات الشعراء کس کی تصنیف ہے؟

22 / 25

اگر کلام یاشعر میں دو ایسے الفاظ لائے جایئں جو شکل اور تلفط میں ایک جیسے ہوں مگر ان کے معنی ان کے معافی مختلف ہوں تو اسے کیا کہتے ہیں؟

23 / 25

ماہنام مخزںکا اجراء کس شہر سے ہوا؟

24 / 25

جب کوئی لفظ اپنے حقیقی معنوں کی بجائے مجازی معنوں میں اس طرح استعمال ہو کہ اس لفظ کے حقیقی اور مجازی  معنوں میں تشبہہ کا تعلق موجود نہ ہو تو اُسے کیا کہتے ہیں؟

25 / 25

شاعر مزدور کس شاعر کو کہا جاتاہے؟

Your score is

The average score is 59%

0%

19 thoughts on “PPSC Lecturer Urdu Test 2 Online Preparation MCQs

  1. ٹیسٹ 2میں جواب استعارہ نہیں مجازمرسل ہے

    جن میں تشبیہ کا تعلق نہ ہو وہ مجاز مرسل کہلاتی

    • No no….test no main….mijaz e mursil wrong hy …istoara sahi jawab hy ….ab wahan pr ghalat hy

      • Kindly apni correction kar len thanks

        مجازِ مرسل کیا ہے؟
        یہ علمِ بیان کی ایک اہم قسم ہے۔جب لفظ اپنے حقیقی معنوں کے بجائے مجازی معنوں میں اسطرح استعمال ہو کہ ان کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق نہ ہو بلکہ اس میں کوئی اور ہی تعلق پایا جائے اسے مجازِ مرسل کہتے ہیں۔استعارہ میں لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں ہوتے لیکن حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور تعلق پایا جائے تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں۔ جیسے روٹی کا مسئلہ بہت اہم ہے۔اس میں ایک روٹی مراد نہیں بلکہ روزگار مراد ہےتشبیہ کےعلاوہ یہ تعلق کئی طرح سے ہو سکتا ہے۔مثلاً؛

        غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو ،جز،مرگ،علاج

        شمع ہر رنگ میں جلتی ہے صبح ہونے تک

        مجاز مرسل کی اقسام؛
        مجاز مرسل کی کل چھ اقسام ہیں جو زیادہ استعمال ہوتی ہیں جن میں یہ شامل ہیں۔

        جزو بول کر کل مراد لینا؛
        اس کی مثال ملاحظہ فرمائیں؛

        سنگ پھینکے ہے مری قبر پہ گل کے بدلے

        گالیاں دے ہے پسِ مرگ بھی قل کے بدلے

        اسی طرح الحمد سورۃ فاتحہ کا نام ہے تو الحمد جزو ہو گا اور پوری سورۃ فاتحہ کے ساتھ دعائیں وغیرہ کل میں شمار کی جائیں گی۔اسی طرح اس نے کانوں میں انگلیاں رکھ لیں۔ انگلیاں نہیں رکھی بلکہ ایک کان میں ایک انگلی کی ایک پور رکھی ہے۔

        کل بول کر جز مراد لینا؛
        جو لفظ کل کے لیے وضع کیا گیا ہو اسے جزو کے معنی میں استعمال کرنا جیسے میں نے قلم بازار سے خریدا میں بازار سے نہیں بلکہ ایک دکان سے خریدا ہے۔ اس کی ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں؛

        اور بازار سے لے آئے ، اگر ٹوٹ گیا

        ساغر جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے

        سبب بول کر مسبب مراد لینا؛
        سبب بول کر نتیجہ مراد لینا سے مراد یہ ہے جیسے دنیا میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں وہ کوئی نہ کوئی سبب کے باعث ہوتے ہیں مثلاً بادل خوب برسا یہاں بادل سبب اور برسات مسبب ہے ۔ ۔اس طرح

        پانی تھا آگ ، گرمی روزِ حساب تھی

        ماہی جو سیخِ موج تک آئی کباب تھی

        مسبب بول کر سبب مراد لینا؛
        چولہا جلتا ہے اس کی ایک قسم ہے۔ اور آگ جل رہی ہے آگ نتیجہ ہے کسی چیز کے جلنے کا تو آگ کسی ایندھن سے ہی جلے گی اور چولہا جل ریا ہے۔اس سے مراد چولہے میں ایندھن جل رہا ہے۔اشعار میں اس کی مثال یہ ہے۔

        اس قدر کھایا تری فرقت میں غم

        دل ہمارا زندگی سے سیر ہے

        مظروف بول کر ظرف مراد لینا؛
        سالن ڈھانپ دو ، شربت لے آو، اور میرے لیے پانی لاو ان میں سالن کا برتن، شربت کا برتن، اور پانی کا برتن مظروف بول کر ظرف مراد لیا ہے۔ اشعار میں اس کی مثال یہ ہے۔

        یہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

        نہ وہ غزنوی میں تڑ پ رہی نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

        ظرف بول کر مظروف مراد لینا؛
        مثلاً فوارہ ابل رہا ہے۔ فوارہ سے مراد پانی ہے۔ فوارہ ظرف ہے اور پانی مظروف ہے۔اور میں نے پانی کے دو گلاس پیئے مظروف مائعات ہے۔ انکو پکڑا نہیں جا سکتا ۔ اشعار میں شاعر کا اندازِ تخیئل ملاحظہ فرمائیں؛

        خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا

        دل کا فوارہ اچھلتا ہی رہا

        دیگر اقسام؛
        مجازِ مرسل کی کچھ دیگر اقسام بھی ہیں جن میں ؛ آلہ بول کر وہ چیز مراد لینا جس سے وہ آلہ بنا ہو، ماضی کی حالت سے موجودہ حالت مراد لینا، مستقبل کو موجودہ حالت سے تعبیر کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

        آلہ بول کر وہ چیز مراد لینا جس سے وہ آلہ بنا ہو؛
        اس کی ایک خوبصورت مثال اشعار کے سانچے میں کچھ ہوں ہے؛

        اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

        ہندستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے

        یہاں پر زبان آلہ ہے۔ لیکن مراد بولی ہے جو منہ والی زبان سے بولی جاتی ہے۔

        ماضی کی حالت سے موجودہ حالت مراد لینا؛
        مثال ملاحظہ فرمائیں؛

        الٰہی کیا کیا تو نے عالم میں تلا طم ہے

        غضب کی ایک مشت ِ خاک زیرِ آسمان رکھ دی

        مستقبل کو موجودہ حالت سے تعبیر کرنا؛
        مثلاً زیرِ تربیت ڈاکٹر کو ڈاکٹر صاحب کہنا۔

        بیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتا

        سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا

        یہ قول حضرت فاطمہ صغٰری کا ہے جو بیمار تھیں انہوں نے جود کو مردہ کہا۔

  2. Kindly jahan correction ho us ka correct answer aur question ka screen shot ly kar whatsapp kar dia karen thanks. Whatsapp no. 03003965106

Leave a comment

Your email address will not be published.